کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر بہتے پانی کے بارے میں ہے، نہ کہ ٹھہرے ہوئے پانی کے بارے میں
حدیث نمبر: 1242
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُفِيانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَتَوَضَّأُ مِنْ فَضْلِهَا ، فَقَالَتْ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمَاءَ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک خاتون نے غسل جنابت کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے بچائے ہوئے پانی سے وضو کرنے لگے۔ ان خاتون نے آپ کی خدمت میں عرض کی: (یہ ان کے غسل کا بچا ہوا پانی ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1242
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده كسابقه، عبد الله" هو ابن المبارك.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1239»