کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غسل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اگر عورت اور اس کا شوہر جنابت سے غسل کرنا چاہیں تو عورت کو پہلے شروع کرنا چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالے، پھر دونوں مل کر غسل کریں
حدیث نمبر: 1192
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ مِنَ الإِنَاءِ الْوَاحِدِ جَمِيعًا ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ ، الْمَاءُ طَهُورٌ لا يَجْنُبُ ، وَلَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِنَاءِ الْوَاحِدِ ، أَبْدَأُهُ فَأُفْرِغُ عَلَى يَدِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَغْمِسَهُمَا فِي الْمَاءِ .
معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا کوئی عورت اپنے شوہر کے ہمراہ ایک ہی برتن کے ساتھ غسل جنابت کر سکتی ہے، جبکہ وہ دونوں ایک ساتھ غسل کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں پانی پاک ہوتا ہے اسے جنابت لاحق نہیں ہوتی میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے تھے۔ میں پہلے آپ کے ہاتھ پر پانی بہاتی تھی اس سے پہلے کہ آپ اپنا ہاتھ پانی میں داخل کریں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1192
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1105). تنبيه!! رقم (1105) = (1108) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين غير عمران بن موسى وهو ثقة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1189»