کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: غسل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جنابت سے غسل کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنا فرج بائیں ہاتھ سے دھوئے، نہ کہ دائیں سے
حدیث نمبر: 1190
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ ، قَالَتْ : أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، قَالَتْ : " فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ ، فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ فَغَسَلَهُ بِشِمَالِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الأَرْضَ فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثَ حَفَنَاتٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ تَنَحَّى غَيْرَ مَقَامِهِ ذَلِكَ ، فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ بیان کرتے ہیں: میری خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے وہ بیان کرتی ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غسل جنابت کے لئے پانی رکھا۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دو مرتبہ یا تین مرتبہ دھوئے۔ پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پانی میں داخل کیا پھر آپ نے اپنی شرم گاہ کو صاف کیا، پھر آپ نے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیل کر اسے دھویا۔ آپ نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا۔ پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ زمین پر رکھ کر اسے اچھی طرح ملا۔ پھر آپ نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا پھر آپ نے اپنے سر پر دونوں ہاتھ ملا کر پانی بہایا پھر آپ اپنی جگہ سے ایک طرف ہٹ گئے پھر آپ نے اپنے دونوں پاؤں دھو لئے پھر میں رومال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا۔