کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: غسل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ابو مرہ کی خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1189
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ : " نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِأَعْلَى مَكَّةَ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَجَاءَهُ أَبُو ذَرٍّ بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٍ ، قَالَتْ : إِنِّي لأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ ، قَالَتْ : فَسَتَرَهُ أَبُو ذَرٍّ ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ سَتَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَبَا ذَرٍّ ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَذَلِكَ فِي الضُّحَى " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، سَتَرْتَهُ فَاطِمَةُ ابْنَتُهُ ، وَأَبُو ذَرٍّ جَمِيعًا بِثَوْبٍ ، فَأَدَّى أَبُو مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ الْخَبَرَ بِذِكْرِ فَاطِمَةَ وَحْدَهَا ، وَأَدَّى الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ الْخَبَرَ بِذِكْرِ أَبِي ذَرٍّ وَحْدَهُ ، حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادُّ وَلا تَهَاتُرٌ ، لأَنَّ الاغْتِسَالَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ كَانَ مَرَّةً وَاحِدَةً ، فَلَمَّا أَرَادَ أَبُو ذَرٍّ أَنْ يَغْتَسِلَ سَتَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دُونَ فَاطِمَةَ .
سیده ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ایک بڑے برتن میں پانی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے اس برتن میں آٹے کا نشان دیکھا۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے آپ کے لئے پردہ تان لیا پھر آپ نے غسل کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے لئے پردہ تان لیا پھر انہوں نے غسل کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات نماز ادا کی۔ یہ چاشت کے وقت کی بات ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا امکان موجود ہے، فتح مکہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا تھا، تو آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ دونوں نے پردہ تان لیا ہو۔ جو ایک ہی کپڑے کے ذریعے ہو، تو سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے غلام ابومرہ نے وہ روایت نقل کر دی جس میں صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر ہو اور مطلب بن حنطب نے وہ روایت نقل کر دی جس میں صرف سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔ اس صورت میں ان دونوں روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں رہتا، کیونکہ اس دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ہی مرتبہ غسل کیا تھا۔ یہی وجہ ہے، جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے غسل کرنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے پردہ تان لیا تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا نہیں کیا تھا۔