کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: غسل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر آدمی کھلی جگہ پر غسل کرنا چاہے تو مستحب ہے کہ وہ کسی سے کپڑے سے پردہ کرنے کو کہے تاکہ کوئی اسے نہ دیکھے
حدیث نمبر: 1187
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْنِي ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعْدَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ يَسْتُرُ عَلَيْهِ ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، لا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ ، أَمْ رُكُوعُهُ ، أَمْ سُجُودُهُ ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْهُ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالَتْ : فَلَمْ أَرَهُ يُسَبِّحُهَا قَبْلُ وَلا بَعْدُ " .
عبیداللہ بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا تھا اور مجھے اس بات کی شدید خواہش تھی کہ مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے بتائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز ادا کی ہے، تو مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا جو مجھے اس بارے میں بتاتا صرف سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن وہ دن چڑھ جانے کے بعد وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت آپ کے لئے پرده تان دیا گیا۔ آپ نے غسل کیا پھر آپ نے اٹھ کر آٹھ رکعات ادا کیں۔ مجھے یہ اندازہ نہیں ہو سکا ان رکعات میں آپ کا قیام زیادہ طویل تھا یا رکوع زیادہ طویل تھا یا سجدہ زیادہ طویل تھا یا یہ سب ایک دوسرے کے قریب قریب تھے۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اس سے پہلے یا اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔