حدیث نمبر: 1180
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِمْرَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُرْوَةَ عَنِ الَّذِي يُجَامِعُ وَلا يُنْزِلُ ؟ قَالَ : عَلَى النَّاسِ أَنْ يَأْخُذُوا بِالآخِرِ ، وَالآخِرُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ وَلا يَغْتَسِلُ ، وَذَلِكَ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ ، ثُمَّ اغْتَسَلَ بَعْدَ ذَلِكَ ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِالْغُسْلِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْحُسَيْنُ هَذَا هُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ بِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، سَكَنْ مَرْوَ ، ثِقَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ .
زہری بیان کرتے ہیں: میں نے عروہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو صحبت کرتا ہے، لیکن اسے انزال نہیں ہوتا، تو عروہ نے بتایا لوگوں پر یہ بات لازم ہے، وہ آخری حکم کو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول آخری معاملے کو اختیار کریں۔ (عروہ نے یہ بات بتائی) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے اور آپ غسل نہیں کرتے تھے لیکن یہ فتح مکہ سے پہلے کی بات ہے اس کے بعد آپ اس صورت میں غسل کرنے لگے۔ آپ نے لوگوں کو بھی غسل کرنے کا حکم دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حسین نامی راوی حسین بن عثمان بن بشر بن محتفز ہیں۔ ان کا تعلق بصرہ سے ہے۔ انہوں نے مرو میں رہائش اختیار کی تھی۔ یہ ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں۔