کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: غسل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اسلام کے ابتدائی دور میں فرض یہ تھا کہ اکسال کے وقت اس چیز کو دھویا جائے جو عورت سے ملی، پھر نماز کے لیے وضو کیا جائے، نہ کہ غسل
حدیث نمبر: 1169
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَأْتِي الْمَرْأَةَ فَلا يُنْزِلُ ؟ قَالَ : " يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ ، وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي " .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے وہ کہتے ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک شخص اپنی بیوی کے پاس آتا ہے (یعنی اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے) اور اس شخص کو انزال نہیں ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کی جو رطوبت اسے لگی ہے وہ اسے دھو لے اور وضو کر کے نماز ادا کر لے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1169
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1166»