کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ کچے گوشت کو مسح کرنا آدمی پر وضو واجب نہیں کرتا
حدیث نمبر: 1163
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِلالُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِغُلامٍ يَسْلُخُ شَاةً ، فَقَالَ لَهُ : " تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ ، فَإِنِّي لا أَرَاكَ تُحْسِنُ تَسْلُخُ " . قَالَ : فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ ، فَدَحَسَ بِهَا حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الإِبْطِ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَكَذَا يَا غُلامُ فَاسْلُخْ " . ثُمَّ انْطَلَقَ فَصَلَّى ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لڑکے کے پاس سے گزرے جو بکری کی کھال اتار رہا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا تم ایک طرف ہٹو میں تمہیں دکھاتا ہوں، کیونکہ میں نے یہ بات نوٹ کی ہے، تم اچھی طرح سے کھال نہیں اتار رہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کی کھال اور گوشت کے درمیان رکھ لیا۔ آپ اسے اندر لے گئے یہاں تک کہ بغل تک وہ اس میں چھپ گیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے لڑکے تم اس طرح کھال اتارو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ آپ نے نماز ادا کی اور آپ نے ازسرنو وضو نہیں کیا اور پانی کو چھوا نہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1163
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (179). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، هلال بن ميمون الجهني، ويقال: الهذلي، وثقه ابن معين، وقال النسائي: ليس به بأس، وذكره المؤلف في «الثقات» 7/ 572، وقال أبو حاتم: ليس بالقوي، يكتب حديثه، وباقي رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1160»