کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو کا حکم اس سے مستثنیٰ ہے جو آگ سے متاثرہ چیز سے وضو ترک کرنے کی اجازت دی گئی
حدیث نمبر: 1156
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَلا تَتَوَضَّأْ " . قَالَ : أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، تَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ " . قَالَ : أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ ؟ قَالَ : " لا " .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کیا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو، تو وضو کر لو اور اگر تم چاہو، تو وضو نہ کرو۔ اس نے عرض کی: کیا میں اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں تم اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کروں میں نے عرض کی: کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں اس نے عرض کی: کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کر لوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1156
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر رقم (1121). تنبيه!! رقم (1121) = (1124) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح وهو مكرر (1124) و (1154).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1153»