کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس چیز کے حکم کا ذکر جو ہمارے پہلے بیان کردہ عمل سے منسوخ ہوا
حدیث نمبر: 1146
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَكَلَ أَثْوَارَ أَقِطٍ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَدْرُونَ لِمَ تَوَضَّأْتُ ؟ إِنِّي أَكَلْتُ أَثْوَارَ أَقِطٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَوَضَّأْ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " . وَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَتَوَضَّأُ مِنَ السُّكَّرِ .
ابراہیم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پنیر کے ٹکڑے کھائے اور وضو کیا پھر انہوں نے یہ بات بتائی کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو میں نے کیوں وضو کیا ہے؟ میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تم آگ پر پکی ہوئی چیزوں کو کھانے کے بعد وضو کرو ۔“ عمر بن عبدالعزیز شکر کھانے کے بعد وضو کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1146
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (189): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1143»