کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے بیان کردہ کھانا بکری کے گوشت سے تھا، نہ کہ اونٹ کے گوشت سے
حدیث نمبر: 1138
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : فَبَسَطَتْ لَهُ عِنْدَ ظِلِّ صَوْرٍ ، وَرَشَّتْ بِالْمَاءِ حَوْلَهُ ، وَذَبَحَتْ شَاةً ، فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ تَحْتَ الصَّوْرِ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَضَلَتْ عِنْدَنَا فَضْلَةٌ مِنْ طَعَامٍ ، فَهَلْ لَكَ فِيهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ ثُمَّ صَلَّى قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری خاتون کے ہاں تشریف لائے راوی بیان کرتے ہیں: اس خاتون نے کھجوروں کے جھنڈ کے سائے کے قریب آپ کے لئے دسترخوان بچھایا اور اس کے اردگرد پانی چھڑک دیا۔ اس نے ایک بکری ذبح کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گوشت کھایا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی کھایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے جھنڈ کے نیچے قیلولہ کیا پھر آپ بیدار ہوئے، تو آپ نے وضو کیا اور ظہر کی نماز ادا کر لی۔ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے پاس کھانے میں سے کچھ بچا ہوا ہے، تو کیا آپ اسے مزید کھانا پسند کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں تو آپ نے اسے کھایا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی کھایا پھر آپ نے (ازسرنو) وضو کئے بغیر نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1138
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، والد وهب -وهو جرير بن حازم- في روايته عن قتادة ضعف، وهذا ليس منها، وانظر ما قبله.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1135»