کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کے گوشت سے وضو کے حکم کو منسوخ کرتی ہے
حدیث نمبر: 1134
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ آخِرُ الأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا خَبَرٌ مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، اخْتَصَرَهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ مُتَوَهِّمًا لِنَسْخِ إِيجَابِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ مُطْلَقًا ، وَإِنَّمَا هُوَ نَسْخٌ لإِيجَابِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ، خَلا لَحْمِ الْجَزُورِ فَقَطْ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو طرح کے معاملات میں سے آخری معاملہ یہ منقول ہے، آپ نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو نہیں کیا تھا۔ امام ابوحاتم فرماتے ہیں: یہ ایک مختصر روایت ہے جو ایک طویل حدیث کا حصہ ہے، شعیب بن ابوحمزہ نامی راوی نے اس کا اختصار کیا ہے، انہیں یہ وہم ہوا کہ یہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے پر وضو لازم ہونے کے منسوخ ہونے کے بارے میں مطلق حدیث ہے۔ حالانکہ یہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کی صورت میں وضو کے لازم ہونے کو اس صورت میں منسوخ کرتی ہے جب وہ پکی ہوئی چیز اونٹ کے گوشت کے علاوہ ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1134
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (187). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح خلا موسى بن سهل الرملي وهو ثقة، وعبد الله: هو ابن المبارك.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1131»