کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر قیس بن طلق سے صرف ملازم بن عمرو کے علاوہ کسی ثقہ نے روایت نہیں کی
حدیث نمبر: 1121
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ النَّيْسَابُورِيُّ ، بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الرَّجُلِ يَمَسُّ ذَكَرَهُ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ ، قَالَ : " لا بَأْسَ بِهِ ، إِنَّهُ لَبَعْضُ جَسَدِكَ " .
قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو نماز میں اپنی شرم گاہ کو چھو لیتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں وہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1121
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» - أيضا -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي. وانظر (1119).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1118»