کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اس میں عمداً اور بھول کر چھونے کا حکم برابر ہے
حدیث نمبر: 1120
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، أَخْبَرَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَحَدَنَا يَكُونُ فِي الصَّلاةِ فَيَحْتَكُّ فَتُصِيبُ يَدُهُ ذَكَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَلْ هُوَ إِلا بَضْعَةٌ مِنْكَ أَوْ مُضْغَةٌ مِنْكَ " .
قیس بن طلق بیان کرتے ہیں، میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی ایک شخص نماز کی حالت میں ہوتا ہے۔ اسے خارش ہوتی ہے، اور اس کا ہاتھ اس کی شرمگاہ تک پہنچ جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ (شرمگاہ) تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: تمہارے جسم کے گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔