کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں گویا دلیل ہے کہ مرد کا اپنی بیوی سے ملامست اس پر وضو واجب نہیں کرتا
حدیث نمبر: 1111
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " إِنْ كُنْتُ لأَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ وَتَلْتَقِي " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ ہمارے ہاتھ اس برتن میں الگ ہوتے تھے اور اس میں ملتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1111
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (70)، «الروض» (798 و 803)، «التعليق على ابن خزيمة» (238 و 239): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم. أبو الطاهر هو أحمد بن عمرو بن عبد الله بن عمرو بن السرح المصري، ثقة من رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1108»
حدیث نمبر: 1112
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ ، فَلْيَتَوَضَّأْ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : عَائِذٌ بِاللَّهِ أَنْ نَحْتَجَّ بِخَبَرٍ . رَوَاهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَذَوُوهُ فِي شَيْءٍ مِنْ كُتُبِنَا ، لأَنَّا لا نَسْتَحِلُّ الاحْتِجَاجَ بِغَيْرِ الصَّحِيحِ مِنْ سَائِرِ الأَخْبَارِ ، وَإِنْ وَافَقَ ذَلِكَ مَذْهَبَنَا ، وَلا نَعْتَمِدُ مِنَ الْمَذَاهِبِ إِلا عَلَى الْمُنْتَزَعِ مِنَ الآثَارِ ، وَإِنْ خَالَفَ ذَلِكَ قَوْلَ أَئِمَّتِنَا . وَأَمَّا خَبَرُ بُسْرَةَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ ، فَإِنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَهُ مِنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ بُسْرَةَ ، فَلَمْ يُقْنِعْهُ ذَلِكَ حَتَّى بَعَثَ مَرْوَانُ شُرْطِيًّا لَهُ إِلَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا ، ثُمَّ آتَاهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِمِثْلِ مَا قَالَتْ بُسْرَةُ ، فَسَمِعَهُ عُرْوَةُ ثَانِيًا عَنِ الشُّرْطِيِّ ، عَنْ بُسْرَةَ ، ثُمَّ لَمْ يُقْنِعْهُ ذَلِكَ حَتَّى ذَهَبَ إِلَى بُسْرَةَ فَسَمِعَ مِنْهَا ، فَالْخَبَرُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ بُسْرَةَ مُتَّصِلٌ لَيْسَ بِمُنْقَطِعٍ ، وَصَارَ مَرْوَانُ وَالشُّرْطِيُّ كَأَنَّهُمَا عَارِيَتَانِ يَسْقُطَانِ مِنَ الإِسْنَادِ .
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: میں مروان بن حکم کے پاس گیا ہم نے وہاں اس بات کا ذکر شروع کیا کون سی صورتوں میں وضو کرنا لازم ہوتا ہے، تو مروان نے بتایا سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جب کوئی شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے، تو اسے وضو کرنا چاہئے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اپنی کتابوں میں کوئی ایسی روایت نقل کریں جسے مروان بن حکم یا اس جیسے افراد نے نقل کیا ہو۔ وجہ یہ ہے، ہم اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ روایات میں سے غیر مستند روایات سے استدلال کیا جائے۔ حتی کہ وہ ہمارے موقف کے موافق ہی کیوں نہ ہو اور مذاہب میں سے ہم صرف ان ہی روایات پر عمل کریں گے جو مستند ہوں۔ اگرچہ وہ ہمارے ائمہ کے قول کے خلاف ہوں۔ جہاں تک سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے پیچھے ہم نے ذکر کیا ہے، تو عروہ بن زبیر نے یہ روایت مروان بن حکم کے حوالے سے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے، لیکن انہوں نے اس پر قناعت نہیں کی، یہاں تک کہ مروان نے اپنے ایک سپاہی کو سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور اس نے ان سے سوال کیا۔ پھر وہ ان لوگوں کے پاس گیا اور انہیں اس چیز کے بارے میں بتایا جو سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے۔ تو عروہ نے دوسری دفعہ یہ روایت سپاہی کے حوالے سے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے سن لی لیکن پھر انہوں نے اس پر بھی قناعت نہیں کی، یہاں تک کہ وہ خود سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے اس حدیث کو سنا تو یہ روایت عروہ کے حوالے سے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔ یہ متصل ہے یہ منقطع نہیں ہے۔ مروان اور اس کا سپاہی دو عاریت کے طور پر راوی ہوں گے جنہیں ان کی سند سے ساقط کر دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1112
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (116)، «صحيح أبي داود» (175). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، وقد صححه غير واحد من الأئمة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1109»