کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مذی سے وضو اور منی سے غسل واجب ہے
حدیث نمبر: 1107
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً ، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ ، فَقَالَ : " لا تَفْعَلْ ، إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاةِ ، وَإِذَا نَضَحْتَ الْمَاءَ ، فَاغْتَسِلْ " .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک ایسا شخص تھا، جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی، میں اس کی وجہ سے سردی کے موسم میں غسل کرتا تھا، تو اس کی وجہ سے میری پشت کو تکلیف کا شکار ہونا پڑتا تھا۔ میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، یا آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو جب تم مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو کر نماز کے وضو کی طرح وضو کرو اور جب تم پانی چھڑکو (یعنی منی خارج ہو) تو تم غسل کر لو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1107
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (1099). تنبيه!! رقم (1099) = (1102) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1104»