کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مذی کے لیے ذکر دھونا کافی نہیں ہوتا کہ اس سے نماز ادا ہو، بغیر وضو کے، اور یہ کہ وضو کپڑے پر چھینٹے مارنے کے بدلے کافی ہے
حدیث نمبر: 1103
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً ، فَكُنْتُ أُكْثِرُ الاغْتِسَالَ مِنْهُ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ " . فَقُلْتُ : فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ ؟ قَالَ : " يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ " .
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے مذی کی وجہ سے مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مجھے اس کی وجہ سے بکثرت غسل کرنا پڑتا تھا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اس کی وجہ سے تمہارے لئے وضو کر لینا کافی ہے۔ میں نے عرض کی: اگر یہ میرے کپڑے پر لگ جائے، تو پھر کیا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے اتنا کافی ہے، تم چلو میں پانی لو اور اسے اپنے کپڑے پر اس جگہ چھڑک لو جہاں تمہیں نظر آ رہا ہے کہ یہ لگی ہوئی ہے۔