کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نیند جو کہ اونگھنا ہے، اسے پانے والے پر وضو واجب نہیں کرتی
حدیث نمبر: 1100
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ لِي : مَا حَاجَتُكَ ؟ قُلْتُ لَهُ : ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ ، قَالَ : فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ ، قُلْتُ : حَكَّ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ، وَكُنْتُ امْرَءًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ : هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلا مِنْ جَنَابَةٍ ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الرُّقَادُ لَهُ بِدَايَةٌ وَنِهَايَةٌ ، فَبِدَايَتُهُ النُّعَاسُ الَّذِي هُوَ أَوَائِلُ النَّوْمِ ، وَصِفَتُهُ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا كُلِّمَ فِيهِ يَسْمَعُ ، وَإِنْ أَحْدَثَ عَلِمَ ، إِلا أَنَّهُ يَتَمَايَلُ تَمَايُلا . وَنِهَايَتُهُ زَوَالُ الْعَقْلِ ، وَصِفَتُهُ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا أَحْدَثَ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ لَمْ يَعْلَمْ ، وَإِنْ تَكَلَّمَ لَمْ يَفْهَمْ . فَالنُّعَاسُ لا يُوجِبُ الْوُضُوءَ عَلَى أَحَدٍ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ عَلَى أَيِّ حَالَةٍ كَانَ النَّاعِسُ ، وَالنَّوْمُ يُوجِبُ الْوُضُوءَ عَلَى مَنْ وُجِدَ عَلَى أَيِّ حَالَةٍ كَانَ النَّائِمُ . عَلَى أَنَّ اسْمَ النَّوْمِ قَدْ يَقَعُ عَلَى النُّعَاسِ ، وَالنُّعَاسُ عَلَى النَّوْمِ ، وَمَعْنَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا بِقَوْلِهِ : لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ سورة البقرة آية 255 وَلَمَّا قَرَنَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ صَفْوَانَ بَيْنَ النَّوْمِ ، وَالْغَائِطِ ، وَالْبَوْلِ ، فِي إِيجَابِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ فُرْقَانٌ ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَلِيلُ أَحَدِهِمَا أَوْ كَثِيرُهُ أَوْجَبَ عَلَيْهِ الطَّهَارَةَ ، سَوَاءً كَانَ الْبَائِلُ قَائِمًا ، أَوْ قَاعِدًا ، أَوْ رَاكِعًا ، أَوْ سَاجِدًا ، كَانَ كُلُّ مَنْ نَامَ بِزَوَالِ الْعَقْلِ ، وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ ، سَوَاءً اخْتَلَفَتْ أَحْوَالُهُ ، أَوِ اتَّفَقَتْ ، لأَنَّ الْعِلَّةَ فِيهِ زَوَالُ الْعَقْلِ لا تَغَيُّرُ الأَحْوَالِ عَلَيْهِ ، كَمَا أَنَّ الْعِلَّةَ فِي الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وُجُودُهُمَا لا تَغَيُّرُ أَحْوَالِ الْبَائِلِ وَالْمُتَغَوِّطِ فِيهِ .
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا تمہیں کیا کام ہے۔ میں نے ان سے گزارش کی علم کا حصول انہوں نے فرمایا: فرشتے طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔ میں نے کہا: پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں میں آپ کے پاس اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ کیا آپ نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی بات سنی ہے، تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے کہ جب ہم لوگ سفر کی حالت میں ہوں۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب ہم مسافر ہوں، تو ہم تین دن اور تین راتوں تک اپنے موزے نہ اتاریں البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے، تاہم پاخانہ یا پیشاب یا سونے) کی وجہ سے وضو ختم ہونے کی صورت میں ہم موزے نہ اتاریں)، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) رقاد (یعنی سونے) کا ایک آغاز ہے اور ایک اختتام ہے۔ اس کا آغاز وہ اونگھ ہے، جو نیند کے شروع میں ہوتی ہے، اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے، اس دوران اگر آدمی کے ساتھ کلام کیا جائے، تو وہ سن لیتا ہے، اور اگر وہ بے وضو ہو جائے، تو اسے یہ پتہ ہوتا ہے البتہ اگر وہ ایک طرف ڈھلک جائے (تو معاملہ مختلف ہے) اور اس کا اختتام عقل (یعنی شعور) کا زائل ہو جانا ہے۔ اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے، جب آدمی اس حالت کے دوران بے وضو ہو جائے، تو اسے پتہ نہیں چلتا اور اگر اس کے ساتھ کلام کیا جائے، تو اسے سمجھ نہیں آتا تو اونگھ کسی بھی شخص پر وضو کو لازم نہیں کرتی۔ خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو۔ خواہ اونگھنے کی حالت کوئی سی بھی ہو جبکہ نیند وضو کو لازم کر دیتی ہے۔ خواہ وہ کسی بھی حالت میں پائی جائے جو سونے والے کی ہوتی ہے۔ اس کے ہمراہ بعض اوقات لفظ نوم (یعنی نیند) کا اطلاق نعاس (یعنی اونگھ) پر بھی ہوتا ہے، اور لفظ نعاس کا اطلاق لفظ نوم پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان دونوں کا معنی مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فرق کو بیان کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” اسے اونگھ نہیں آتی ہے اور نیند بھی نہیں آتی ہے ۔“ تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صفوان کی نقل کردہ روایت میں نیند، پاخانے اور پیشاب کو وضو لازم کرنے والی چیزوں میں شامل کر لیا تو جس طرح پیشاب اور پاخانے میں کوئی فرق نہیں ہے یہ دونوں جس کسی سے بھی صادر ہوں گے خواہ وہ تھوڑے ہوں، یا زیادہ تو ایسے شخص پر وضو کرنا لازم ہو جائے گا۔ خواہ پیشاب کرنے والا شخص بیٹھ کر کرے یا کھڑا ہو کر کرے یا رکوع کی حالت میں کرے یا سجدے کی حالت میں کرے، تو ہر وہ شخص جس کی عقل زائل ہو جائے اور وہ سو جائے، تو اس پر وضو کرنا لازم ہو جائے گا۔ خواہ اس کی حالتوں میں اختلاف ہو یا حالتوں میں اتفاق ہو، کیونکہ اس میں بنیادی علت عقل کا زائل ہو جانا ہے۔ حالت کا تبدیل ہونا بنیادی علت نہیں ہے۔ جیسا کہ پیشاب اور پاخانے میں علت ان دونوں کا پایا جانا ہے۔ پیشاب کرنے والے یا پاخانہ کرنے والے کی حالت کا متغیر ہونا (علت نہیں) ہے۔