کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے تمام اسباب میں دائیں طرف سے شروع کرے
حدیث نمبر: 1091
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ : فِي طُهُورِهِ ، وَتَنَعُّلِهِ ، وَتَرَجُّلِهِ " . قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ سَمِعْتُ الأَشْعَثَ بِوَاسِطَ ، يَقُولُ : يُحِبُّ التَّيَامُنَ ، وَذَكَرَ شَأْنَهُ كُلَّهُ ، ثُمَّ ، قَالَ : شَهِدْتُهُ بِالْكُوفَةِ يَقُولُ : يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو، جہاں تک ہو سکے، وضو کرتے ہوئے جوتا پہنتے ہوئے کنگھی کرتے ہوئے دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند تھا۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں میں نے اشعث نامی راوی کو واسط میں یہ بیان کرتے سنا۔ ” (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) دائیں طرف کو پسند کرتے تھے پھر انہوں نے تمام معاملات کا ذکر کیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے انہیں کوفہ میں یہ کہتے سنا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں تک ہو سکے دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند تھا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1091
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (93)، «مختصر الشمائل» (69): ق نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، وأبو الأشعث: هو سليم بن حنظلة أبو الشعثاء المحاربي الكوفي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1088»