کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وضو کی سنتوں کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ آدمی وضو میں اپنے منہ سے شروع نہ کرے قبل اس کے کہ ہاتھ دھو لے
حدیث نمبر: 1089
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا جُبَيْرٍ الْكِنْدِيَّ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ ، وَقَالَ : " تَوَضَّأْ يَا أَبَا جُبَيْرٍ " ، فَبَدَأَ بِفِيهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَبْدَأْ بِفِيكَ ، فَإِنَّ الْكَافِرَ يَبْدَأُ بِفِيهِ " ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ .
عبدالرحمان بن جندب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ابوجبیر کندی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے وضو کا پانی لانے کے لئے حکم دیا، اور ارشاد فرمایا: اے ابوجبیر! تم جاؤ اور وضو کرو انہوں نے اپنے منہ کے ذریعے آغاز کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اپنے منہ کے ذریعے آغاز نہ کرو، کیونکہ کافر شخص اپنے منہ کے ذریعے آغاز کرتا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا آپ نے دونوں ہاتھ دھوئے انہیں اچھی طرح صاف کیا پھر آپ نے کلی کی پھر ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر دائیں بازو کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا پھر بائیں بازو کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا پھر دونوں پاؤں دھو لئے۔