کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کی سنتوں کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر انگلیوں کے درمیان خلال کرنے کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 1088
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ ، وَهُمْ يَتَوَضَّئُونَ عِنْدَ الْمَطْهَرَةِ فَيَقُولُ لَهُمْ : أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
محمد بن زیاد بیان کرتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے پاس تشریف لاتے تھے۔ وہ لوگ اس وقت وضو خانے میں وضو کرتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان سے فرمایا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے تم لوگ اچھی طرح وضو کرو، کیونکہ میں نے سیدنا ابوالقاسم رضی اللہ عنہ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” بعض ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1088
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، محمد هو ابن جعفر غندر، ومحمد بن زياد هو الجمحي المدني، لا الألهاني الحمصي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1085»