کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنا چہرہ دھونے کے ارادے پر پانی سے چھینٹے مارے
حدیث نمبر: 1080
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَلِيٌّ بَيْتِي وَقَدْ بَالَ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَجِئْنَاهُ بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " أَلا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " فَقُلْتُ : فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . قَالَ : " فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَمِينِهِ الْمَاءَ فَصَكَّ بِهِ وَجْهَهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ وَضُوئِهِ " .
عبیداللہ خولانی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے وہ پیشاب کر چکے تھے۔ انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا ہم ایک بڑے برتن میں آپ کے پاس پانی لے کر آئے جس میں ایک مد پانی آ جاتا ہے۔ اسے آپ کے سامنے رکھا گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا میں تمہارے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں۔ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں (ضرور ایسا کریں) راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ دھوئے۔ انہوں نے کلی کی ناک میں پانی ڈالا ناک کو صاف کیا پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ میں پانی لے کر اسے اپنے چہرے پر چھپکا مار کر (دھویا) یہاں تک کہ انہوں نے پورا وضو کیا۔