کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کی سنتوں کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ آدمی اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے جب تک کہ وہ تین بار نہ دھو لے، اگر وہ نیند سے بیدار ہوا ہو
حدیث نمبر: 1061
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ ، فَلا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لا يَدْرِي أَيْنَ كَانَتْ تَطُوفُ يَدُهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو وہ اس وقت تک پانی میں ہاتھ نہ ڈالے، جب تک انہیں تین دفعہ دھو نہ لے۔ ‘ کیونکہ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1061
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (93). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده جيد، معاوية بن صالح: صدوق له أوهام، وباقي رجاله ثقات، وأبو مريم قال الحافظ في «التقريب»: أبو مريم الأنصاري أو الحضرمي خادم المسجد بدمشق أو حمص، قيل: اسمه عبد الرحمن بن ماعز، ويقال: هو مولى أبي هريرة، وهو ثقة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1058»