کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کی فضیلت کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر وضو کو کامل کرنے کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 1055
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ ، فَتَوَضَّؤُوا وَهُمْ عِجَالٌ ، قَالَ : فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ ، وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ ، لَمْ يَمَسَّهَا الْمَاءُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف واپس آ رہے تھے۔ راستے میں کسی جگہ کچھ لوگ عصر کی نماز کے وقت تیزی سے آگے بڑھے۔ انہوں نے جلد بازی میں وضو شروع کیا۔ سیدنا عبداللہ بیان کرتے ہیں: جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے تو ان کی (ایڑیاں) خشک تھیں۔ چمک رہی تھیں وہاں پانی نہیں لگا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے تم لوگ اچھی طرح وضو کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1055
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (87): ق، وليس عند (خ) الإسباغ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، جرير: هو ابن عبد الحميد الضبي، ومنصور: هو ابن المعتمر، وأبو يحيى: اسمه مصْدَع أبو يحيى الأعرج المُعَرْقَب.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1052»