کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وضو کی فضیلت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ وضو کرنے والے کو اپنی انگلیوں کے درمیان خلال کرنا چاہیے اور وضو کو کامل کرنے میں نیت رکھنی چاہیے
حدیث نمبر: 1054
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ ، وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ ، فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ ، وَأَتَتْنَا بِقِنَاعٍ وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ التَّمْرُ فَأَكَلْنَا ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا ؟ أَوْ آمُرُ لَكُمْ بِشَيْءٍ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَبَيْنَمَا نَحْنُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ ، إِذْ رَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ وَمَعَهُ سَخْلَةٌ تَيْعَرُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا وَلَّدْتَ ؟ " قَالَ : بَهْمَةٌ ، قَالَ : " اذْبَحْ مَكَانَهَا شَاةً " ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : " لا تَحْسِبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ : لا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجَلِكَ ذَبَحْنَاهَا ، إِنَّ لَنَا غَنَمًا مِائَةً لا تَزِيدُ ، فَمَا وَلَدَتْ بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِيَ امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ . قَالَ : " فَطَلِّقْهَا إِذَا " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا ، وَلَهَا صُحْبَةً ، قَالَ : " عِظْهَا ، فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ ، فَسَتَقْبَلُ ، وَلا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ ، قَالَ : " أَسْبِغِ الْوُضُوءَ ، وَخَلِّلْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ ، وَبَالِغْ فِي الاسْتِنْشَاقِ إِلا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا " .
عاصم بن لقیط بن سبرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں بنو مثفق کے وفد میں شامل ہو کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن آپ ہمیں اپنے گھر میں نہیں ملے۔ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تھے۔ انہوں نے ہمارے لئے خزیرہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ تیار ہو گیا وہ ہمارے پاس ایک تھال میں کھجوریں لے کے آئی۔ ہم انہیں کھا رہے تھے۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تم نے کوئی چیز کھائی ہے یا میں تمہارے لئے کسی چیز کا حکم دوں۔ ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران چرواہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بکریاں لے کر ان کے باڑے کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک بکری تھی جو آواز نکال رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اس نے بچے کو جنم دے دیا ہے۔ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ بچہ پیدا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے کی جگہ ایک بکری کو ذبح کر دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ یہ نہ سمجھنا ہم تمہاری وجہ سے اسے ذبح کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس ایک سو بکریاں ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں ہوتی جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے، تو ہم اس بچے کی جگہ ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری ایک بیوی ہے، جس کی زبان میں کچھ تیزی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے طلاق دے دو۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا اس سے بچہ بھی ہے، اور بڑا پرانا ساتھ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نصیحت کرو اگر اس میں بھلائی ہو گی، تو وہ اسے قبول کر لے گی تاہم تم اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارو جس طرح کنیز کو مارا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے وضو کے بارے میں بتائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اچھی طرح وضو کرو انگلیوں کے درمیان خلال کرو۔ ناک میں اچھی طرح پانی ڈالو البتہ اگر تم روزے کی حالت میں (ہو، تو اس کا حکم مختلف) ہے۔