کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جنت میں داخلہ اس کے لیے واجب ہوتا ہے جو وضو مکمل کرنے کے بعد اللہ کی وحدانیت اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دے
حدیث نمبر: 1050
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُدَّامَ أَنْفُسِنَا نَتَنَاوَبُ الرِّعْيَةَ رِعْيَةَ إِبِلِنَا فَكُنْتُ عَلَى رِعْيَةِ الإِبِلِ ، فَرُحْتُهَا بِعَشِيٍّ ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ، يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ ، فَقَدْ أَوْجَبَ " . قَالَ : فَقُلْتُ : مَا أَجْوَدَ هَذِهِ ! ! ، فَقَالَ رَجُلٌ : الَّذِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ . فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قُلْتُ : مَا هُوَ يَا أَبَا حَفْصٍ ؟ قَالَ : إِنَّهُ قَالَ آنِفًا ، قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ وَضُوئِهِ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، إِلا فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ لَهُ ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ " ، قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ : وَحَدَّثَنِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو عُثْمَانَ هَذَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ الرَّحَبِيَّ ، وَإِنَّمَا اعْتِمَادُنَا عَلَى هَذَا الإِسْنَادِ الأَخِيرِ ، لأَنَّ حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ لَيْسَ بِشَيْءٍ فِي الْحَدِيثِ .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم اپنے خادم خود ہی تھے۔ اپنے اونٹوں کی دیکھ بھال خود کیا کرتے تھے۔ میں بھی کچھ اونٹوں کو چرا رہا تھا۔ میں شام کے وقت انہیں واپس لایا مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملے آپ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ” جو بھی شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر اٹھ کر دور کعات نماز ادا کرتا ہے، جس کے دوران وہ اپنے دماغ اور چہرے کے ساتھ متوجہ رہتا ہے، تو وہ شخص (اپنے لیے جنت کو) واجب کر لیتا ہے ۔“ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: یہ کتنی عمدہ بات ہے، تو ایک صاحب نے کہا: جو بات اس سے پہلے تھی وہ زیادہ عمدہ تھی۔ میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے دریافت کیا: اے ابوحفص! وہ کیا بات تھی، تو انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے آنے سے پہلے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ” جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرتا ہے، اور وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ پڑھتا ہے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔“ تو اس شخص کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، وہ ان میں سے جس میں سے چاہے اندر داخل ہو جائے۔ معاویہ بن صالح کہتے ہیں ربیعہ بن یزید نے ابوادریس کے حوالے سے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث مجھے سنائی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (ابوعثمان نامی راوی کے بارے میں امکان موجود ہے، یہ حریز بن عثمان رحبی ہو۔ ہمارا اعتماد اس دوسری سند پر ہے، حریز بن عثمان نامی راوی علم حدیث میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1050
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (164): م. * [قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو عُثْمَانَ هَذَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ الرَّحَبِيَّ] قال الشيخ: قلت: وخالفه أبو بكر بن منجويه، فقال: «يُشبة أن يكون: سعيد بن هانئ الخولانيّ المصريّ»، فالله أعلم! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، رجاله رجال مسلم، أبو عثمان مختلف في اسمه، قال أبو بكر بن منجويه: يشبه أن يكون سعيد بن هانىء الخولاني المصري، وقال المؤلف: يشبه أن يكون حريز بن عثمان، وقال الحافظ في «التقريب» بعد ذكر القولين: وإلا فمجهول، وفي الميزان 4/ 250: أبو عثمان عن جبير بن نفير لا يدرى من هو؟ وخرج له مسلم متابعة، روى عنه معاوية بن صالح. وقد تابعه عليه كما ذكر المصنف ربيعة بن يزيد، فالحديث صحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1047»