کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ قیامت میں وضو کے آثار سے تحجیل صرف اس امت کے لیے ہے، حالانکہ اس سے پہلے کی امتیں بھی اپنی نمازوں کے لیے وضو کرتی تھیں
حدیث نمبر: 1048
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرِدُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ سِيمَا أُمَّتِي لَيْسَ لأَحَدٍ غَيْرِهَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم لوگ وضو کی وجہ سے چمک دار پیشانیاں لے کر آؤ گے یہ میری اُمت کا مخصوص علامتی نشان ہے۔ یہ ان کے علاوہ کسی اور کا نہیں ہو گا ۔“