کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت قیامت کے دن ان کے دنیا میں کیے گئے وضو کے آثار سے پہچانی جائے گی
حدیث نمبر: 1046
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَقْبَرَةَ ، فَقَالَ : " السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ : " بَلْ أَصْحَابِي ، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ ، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ ، أَلا يَعْرِفُ خَيْلَهُ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي ، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ ، أُنَادِيهِمْ : أَلا هَلُمَّ ، أَلا هَلُمَّ ، فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : فَسُحْقًا ، فَسُحْقًا ، فَسُحْقًا " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الاسْتِثْنَاءُ يَسْتَحِيلُ فِي الشَّيْءِ الْمَاضِي ، وَإِنَّمَا يَجُوزُ الاسْتِثْنَاءُ فِي الْمُسْتَقْبَلِ مِنَ الأَشْيَاءِ . وَحَالُ الإِنْسَانِ فِي الاسْتِثْنَاءِ عَلَى ضَرْبَيْنِ ، إِذَا اسْتَثْنَى فِي إِيمَانِهِ : فَضَرْبٌ مِنْهُ يُطْلَقُ مُبَاحٌ لَهُ ذَلِكَ ، وَضَرْبٌ آخَرُ إِذَا اسْتَثْنَى فِيهِ الإِنْسَانُ ، كَفَرَ . وَأَمَّا الضَّرْبُ الَّذِي لا يَجُوزُ ذَلِكَ ، فَهُوَ أَنْ يُقَالَ لِلرَّجُلِ : أَنْتَ مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ ، وَمَلائِكَتِهِ ، وَكُتُبِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، وَالْبَعْثِ وَالْمِيزَانِ ، وَمَا يُشْبِهُ هَذِهِ الْحَالَةَ ؟ فَالْوَاجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يَقُولَ : أَنَا مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ حَقًّا ، وَمُؤْمِنٌ بِهَذِهِ الأَشْيَاءِ حَقًّا ، فَمَتَى مَا اسْتَثْنَى فِي هَذَا ، كَفَرَ . وَالضَّرْبُ الثَّانِي : إِذَا سُئِلَ الرَّجُلُ : إِنَّكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِي يُقِيمُونَ الصَّلاةَ ، وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ ، وَهُمْ فِيهَا خَاشِعُونَ ، وَعَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ؟ فَيَقُولُ : أَرْجُو أَكُونَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . أَوْ يُقَالُ لَهُ : أَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ فَيَسْتَثْنِي أَنْ يَكُونَ مِنْهُمْ . وَالْفَائِدَةُ فِي الْخَبَرِ حَيْثُ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ " أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَقِيعَ الْغَرْقَدِ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ وَمُنَافِقُونَ ، فَقَالَ : " إِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ " ، وَاسْتَثْنَى الْمُنَافِقِينَ أَنَّهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يُسْلِمُونَ ، فَيَلْحَقُونَ بِكُمْ ، عَلَى أَنَّ اللُّغَةَ تُسَوِّغُ إِبَاحَةَ الاسْتِثْنَاءِ فِي الشَّيْءِ الْمُسْتَقْبَلِ وَإِنْ لَمْ يَشُكَّ فِي كَوْنِهِ ، لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ سورة الفتح آية 27 .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے، تو آپ نے یہ دعا پڑھی۔ ” تم پر سلام ہو اے اہل ایمان کی بستی کے رہنے والو! بے شک ہم بھی اللہ نے چاہا تو تم سے آ ملیں گے میری یہ خواہش ہے، میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھ لیا ہوتا ۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے ساتھی ہو ہمارے بھائی وہ لوگ ہوں گے جو بعد میں آئیں گے اور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اپنی امت کے، بعد میں آنے والے لوگوں کو کیسے پہچانیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی شخص کا کوئی ایسا سیاہ گھوڑا ہو، جس کے ماتھے اور چاروں پاؤں کے پاس سفید نشان ہوں، تو وہ مکمل سیاہ گھوڑوں کے درمیان اس کو پہچان نہیں لے گا۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ بھی جب قیامت کے دن آئیں گے تو وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں چمک رہی ہوں گی اور میں عرض ان پر لوگوں پر پیش رو ہوں گا، اور میرے حوض سے کچھ لوگوں کو پرے کر دیا جائے گا، جس طرح گم شدہ اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے۔ میں انہیں پکار کر کہوں گا: آگے آؤ! آگے آؤ! تو یہ کہا: جائے گا ان لوگوں نے آپ کے بعد تبدیلی کی تھی، تو میں کہوں گا: پرے ہو جاؤ پرے ہو جاؤ پرے ہو جاؤ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ماضی کی چیز میں استثنی کرنا ناممکن ہے۔ استثنیٰ صرف ان چیزوں میں ہو سکتا ہے، جو مستقبل سے تعلق رکھتی ہو۔ استثنیٰ کے بارے میں انسان کی حالت دو طرح کی ہو سکتی ہے۔ اس وقت جب وہ اپنے ایمان میں استثنیٰ کرتا ہے ان میں سے ایک قسم وہ ہے، جس کو مطلق طور پر کرنا آدمی کے لئے مباح ہے۔ دوسری قسم وہ ہے اس میں انسان استثنی کرے، تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ جہاں تک اس قسم کا تعلق ہے، جو جائز نہیں ہے وہ یہ ہے، آدمی سے کہا: جائے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اس کی کتابوں، رسولوں، جنت، جہنم، دوبارہ زندہ ہونے، میزان اور ان جیسی دوسری چیزوں پر ایمان رکھتے ہو، تو آدمی پر لازم ہے، وہ یہ کہے، میں اللہ تعالیٰ کے حق ہونے پر اور ان چیزوں کے حق ہونے پر ایمان رکھتا ہوں۔ جب آدمی ان چیزوں کے بارے میں استثنیٰ کرے گا، تو وہ کافر ہو جائے گا، اور دوسری قسم یہ ہے، جب آدمی سے یہ سوال کیا جائے کہ تم ان مومنوں میں سے ہو جو نماز قائم کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں اور وہ ان میں خشوع کرتے ہیں اور وہ لغو چیزوں سے اعراض کرتے ہیں، تو وہ شخص پھر یہ کہے، میں اُمید کرتا ہوں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں ان میں سے ہوں گا۔ یا اس سے یہ کہا: جائے کہ کیا تم جنتی ہو، تو جنتی ہونے میں استثنیٰ کر لے۔ یہ فائدہ روایت سے اس طرح ثابت ہوتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، ” بے شک اگر اللہ نے چاہا تو ہم تم سے آ ملیں گے ۔“ یہ اس وقت ہوا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ہمراہ جنت البقیع میں تشریف لائے تھے۔ جس میں مومن اور منافق دونوں لوگ تھے ” بے شک اگر اللہ نے چاہا تو ہم تم سے آ ملیں گے، یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استنی کر لیا) جبکہ منافقین کے بارے میں آپ نے یہ استثنی کیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو وہ مسلمان ہو کر تم لوگوں سے آ ملیں گے۔ اس کی بنیاد پر یہ بات سامنے آتی ہے، لغت اس بات کو درست قرار دیتی ہے، مستقبل سے تعلق رکھنے والی کسی چیز کے بارے میں استثنی کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس کے ہونے کے بارے میں شک نہ ہو۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ” اگر اللہ نے چاہا تو تم لوگ ضرور بہ ضرور امن کی حالت میں مسجد حرام میں داخل ہو گے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1046
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحكام الجنائز» (190)، «الإرواء» (776): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1043»