کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کے گناہ معاف کرتا ہے جو وضو مکمل کرنے کے بعد اس طرح وضو کرے اور نماز پڑھے جیسا کہ حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 1042
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السَّلاسِلِ ، فَفَاتَهُمُ الْعَدُوُّ ، فَرَابَطُوا ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ ، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، فَقَالَ عَاصِمٌ : يَا أَبَا أَيُّوبَ ، فَاتَنَا الْعَدُوُّ الْعَامَ ، وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ . قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ ، وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْمَسَاجِدُ الأَرْبَعَةُ : مَسْجِدُ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدُ الْمَدِينَةِ ، وَمَسْجِدُ الأَقْصَى ، وَمَسْجِدُ قُبَاءٍ . وَغَزَاةُ السَّلاسِلِ كَانَتْ فِي أَيَّامِ مُعَاوِيَةَ ، وَغَزَاةُ السَّلاسِلِ كَانَتْ فِي أَيَّامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عاصم بن سفیان ثقفی بیان کرتے ہیں: لوگوں نے غزوہ سلاسل میں شرکت کی لیکن وہ دشمن پر ق ابونہ پا سکے وہ پہرے داری کرتے رہے، پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے، تو اس وقت ان کے پاس سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ عاصم بن سفیان نے کہا: اے سیدنا ابوایوب اس سال ہم دشمن پر قابونہیں پا سکے۔ ہمیں یہ بات بتائی گئی ہے، جو شخص چار مساجد میں نماز ادا کر لیتا ہے اس کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تمہارے لئے اس سے زیادہ آسان ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو شخص اسی طرح وضو کرتا ہے، جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے، اور اسی طرح نماز ادا کرتا ہے، جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔“ (پھر انہوں نے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا) اے عقبہ! کیا اسی طرح ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ چار مساجد یہ ہیں۔ مسجد حرام، مسجد مدینہ، مسجد اقصی اور مسجد قبا جنگ سلاسل سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی تھی، اور غزوہ سلاسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہوا تھا۔