کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا وضو اور نماز کے ساتھ دو نمازوں کے درمیان کے گناہ معاف کرتا ہے
حدیث نمبر: 1041
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ جَلَسَ عَلَى الْمَقَاعِدِ ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَآذَنَهُ بِصَلاةِ الْعَصْرِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، ثُمّ قَالَ : لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَوْلا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَمَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنِ امْرِئٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلاةَ ، إِلا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاةِ الأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا " . قَالَ مَالِكٌ : أُرَاهُ يُرِيدُ هَذِهِ الآيَةَ أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 .
حمران بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ صحن میں بیٹھے تھے مؤذن ان کے پاس اطلاع دینے کے لئے آیا۔ انہوں نے پانی منگوایا وضو کیا پھر یہ بات ارشاد فرمائی میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ایک آیت موجود نہ ہوتی، تو میں وہ حدیث بیان نہ کرتا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے سنا ہے: ” جو بھی شخص اچھی طرح وضو کرتا تھا پھر نماز ادا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اس نماز اور اس کے بعد والی نماز کے درمیانی گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے، جب تک وہ اگلی) نماز ادا نہیں کرتا ۔“ امام مالک بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مراد یہ آیت تھی۔ ” تم دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصہ میں نماز قائم کرو۔ بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1041
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1038»