کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وضو کی فضیلت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر عبد الرحمن بن یعقوب نے ابو ہریرہ سے تنہا بیان کی
حدیث نمبر: 1039
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا هَوْبَرُ بْنُ مُعَاذٍ الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا ، وَيُكَفَّرُ بِهِ الذُّنُوبَ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكْرُوهَاتِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلاةِ بَعْدَ الصَّلاةِ ، فَذَلِكَ الرِّبَاطُ " .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔ اور اس کے ذریعے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب طبیعت آمادہ نہ ہو، تو اچھی طرح وضو کرنا زیادہ قدموں کے ساتھ (چل کر) مسجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی تیاری ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطهارة / حدیث: 1039
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 161). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط شرحبيل بن سعد: هو الخطمي المدني مولى الأنصار، ضعفه غير واحد، وقال الحافظ في «التقريب» ": صدوق اختلط بأخرة، وصحح حديثه ابن خزيمة والمؤلف، فمثله يصلح للشواهد، وهذا الحديث منها، وباقي رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1036»