کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پناہ مانگنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ دعا سابقہ قضاء کو ٹال دیتی ہے
حدیث نمبر: 1036
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا لُدِغَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، مَا ضَرَّكَ " . قَالَ : فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا لُدِغَ إِنْسَانٌ مِنَّا أَمَرَهُ أَنْ يَقُولَهَا . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا ضَرَّكَ " أَرَادَ بِهِ أَنَّكَ لَوْ قُلْتَ مَا قُلْنَا ، لَمْ يَضُرَّكَ أَلَمُ اللَّدْغِ ، لا أَنَّ الْكَلامَ الَّذِي قَالَ يَدْفَعُ قَضَاءَ اللَّهِ عَلَيْهِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لیے ہوتے: ” (اللہ نے) جو پیدا کیا ہے، میں اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تو اس چیز نے تمہیں نقصان نہیں پہنچانا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم میں سے جب کسی شخص کو کوئی زہریلی چیز کاٹ لیتی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسے یہ کلمات پڑھنے کی ہدایت کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے ” کوئی چیز تمہیں نقصان نہیں دے گی “ اس سے مراد یہ ہے، ہم نے جو پڑھا ہے، اگر تم وہ پڑھ لو گے تو ڈنگ مارنے کی تکلیف تمہیں نقصان نہیں دے گی۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعا پڑھی تھی۔ وہ اس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو پرے کر دے گی۔