کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پناہ مانگنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ جل وعلا سے اپنے دین اور دنیا کے خراب ہونے سے، جو اس کے برے عمر کی وجہ سے ہو، پناہ مانگے
حدیث نمبر: 1024
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ حَجَّتَيْنِ ، إِحْدَاهُمَا : الَّتِي أُصِيبَ فِيهَا ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بِجَمْعٍ : أَلا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ سُوءِ الْعُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو مرتبہ حج کیا ہے۔ ان میں ایک مرتبہ وہ حج تھا (جس کے کچھ عرصہ بعد) وہ شہید ہو گئے (اس حج کے موقع پر) میں نے انہیں مزدلفہ میں یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ خبردار! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ ” اے اللہ! میں کنجوسی اور بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور خرابی عمر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور سینے کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔“