کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پناہ مانگنے کا بیان - اس چیز کا ذکر کہ آدمی اسے شام کے وقت کہے تو سانپوں کے ڈسنے سے محفوظ رہتا ہے
حدیث نمبر: 1021
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ ، قَالَ : مَا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ؟ " قَالَ : لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ يَضُرَّكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی: گزشتہ رات میں سو نہیں سکا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کس وجہ سے؟ اس نے عرض کی: مجھے بچھو نے کاٹ لیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لیے ہوتے۔ ” (اللہ تعالیٰ نے) جو چیز پیدا کی ہے میں اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ۔“ تو انشاء اللہ اس (بچھو) نے تمہیں نقصان نہیں پہنچانا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 1021
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير سهيل بن أبي صالح، فمن رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1017»