کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پناہ مانگنے کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اللہ جل وعلا سے ان چار چیزوں سے پناہ مانگی جائے جن سے پناہ مانگنا اس کے ساتھ مستحق ہے
حدیث نمبر: 999
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبَجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآن : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو اس دعا کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے جس طرح انہیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ ” اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور دجال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 999
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (941 / التحقيق الثاني): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير أبي الزبير - وهو محمد بن مسلم بن تدرس- فمن رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 995»