کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا کی کثرت کرے تاکہ دونوں کے لیے اس کی قبولیت کی امید ہو
حدیث نمبر: 989
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو لأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلا قَالَ الْمَلَكُ : وَلَكَ بِمِثْلٍ ، وَلَكَ بِمِثْلٍ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كُلُّ مَا يَجِيءُ فِي الرِّوَايَاتِ فَهُوَ : كُرَيْزٌ ، إِلا هَذَا فَإِنَّهُ : كَرِيزٌ . وَأُمُّ الدَّرْدَاءِ اسْمُهَا : هُجَيْمَةُ بِنْتُ حُيَيٍّ الأَوْصَابِيَّةُ ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ : عُوَيْمِرُ بْنُ عَامِرٍ .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو بھی مسلمان اپنے بھائی کے لئے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے، تو فرشتہ یہ کہتا ہے، تمہیں بھی اسی کی مانند ملے تمہیں بھی اسی کی مانند ملے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) تمام تر روایات میں راوی کے (دادا) کا نام کریز ہے۔ (یعنی ” ک “ پر پیش اور ” ر “ پر زبر ہے) جبکہ یہاں اس کا نام کریز ہے (یعنی ک پر زبر اور پر زیر) نقل ہوا ہے۔ جبکہ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کا نام ہجیمہ بنت حیی ہے، جبکہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا نام عویمر بن عامر ہے۔