کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر آدمی اپنے مسلمان بھائی کے لیے دعا کرنا چاہے تو اسے پہلے اپنے لیے اور پھر اس کے لیے دعا کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 988
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِيَاءِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ ، وَإِنَّهُ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى ، لَوْ صَبَرَ مَعَ صَاحِبِهِ ، لَرَأَى الْعَجَبَ الأَعَاجِيبَ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي سورة الكهف آية 76 " .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سے پہلے جن بھی انبیاء کا ذکر کرتے تھے، تو پہلے آپ اپنا ذکر کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہم پر اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر رحمت کرے اگر وہ اپنے ساتھی (یعنی سیدنا خضر علیہ السلام) کے ساتھ صبر سے کام لیتے، تو وہ خود بھی حیران کن چیزیں دیکھتے لیکن انہوں نے یہ کہا:۔ ” اگر میں نے آپ سے اس کے بعد کوئی سوال کیا، تو آپ میرے ساتھ نہ رہیئے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 988
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح سنن أبي داود» (3984)، «المشكاة» (2258). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح غسان بن عمر بن عبيد الله العدني انفرد بتوثيقه المؤلف 9/ 2، ولم يرو عنه غير أبي الربيع الزهراني سليمان بن داود، وباقي رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 984»