کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دعاؤں کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ بندہ اپنے رب سے دعا مانگے کہ اس کے ساتھ دوسروں کو رحم نہ کرے
حدیث نمبر: 987
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلاةِ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي ، وَارْحَمْ مُحَمَّدًا ، وَلا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا . فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ : " لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا " . يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ ایک دیہاتی نے نماز کے دوران کہا: اے اللہ! تو مجھ پر رحم کر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ اور کسی پر رحم نہ کرنا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی، تو آپ نے اس دیہاتی سے فرمایا: ” تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے۔ “ (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراداللہ تعالیٰ کی رحمت تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 987
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1/ 190 - 191): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حرملة، فمن رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 983»