کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اللہ جل وعلا کی حمد پر اکتفا کرے جو اسے ہدایت کی نعمت سے نوازتا ہے اور سؤال میں تکلف سے بچے
حدیث نمبر: 982
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَمِّ ، قُلْ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَشْهَدْ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو جَهْلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ قَالَ : فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ ، حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ سورة التوبة آية 113 وَأُنْزِلَتْ فِي أَبِي طَالِبٍ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ سورة القصص آية 56 .
سعید بن مسیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب جناب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت جناب ابوطالب کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابوامیہ بھی موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا جان! آپ ” لا الہ الا اللہ “ پڑھ لیجئے اس کلمہ کی وجہ سے میںاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کے لئے گواہی دوں گا۔ ابوجہل اور عبداللہ بن ابوامیہ بولے: اے ابوطالب! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ رہے ہو؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے مسلسل یہی پیشکش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ جناب ابوطالب نے ان لوگوں کے ساتھ جو آخری بات کی وہ یہ تھی۔ کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں۔ انہوں نے ” لا الہ الا الله “ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” میں آپ کے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتا رہوں گا، جب تک مجھے اس سے منع نہیں کر دیا جاتا۔ “ تو یہ آیت نازل ہوئی: ” نبی اور اہل ایمان کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے، وہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ ان کے قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہوں اس کے بعد کہ ان لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہو چکی ہو کہ وہ لوگ جہنمی ہیں ۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) یہ آیت جناب ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ ” بے شک تم اسے ہدایت نہیں دیتے، جسے تم پسند کرتے ہو،اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے۔ وہ ہدایت پانے والوں کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 982
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1273): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حرملة، فمن رجال مسلم. ويونس: هو ابن يزيد بن أبي النجاد الأيلي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 978»