کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے لیے استغفار بالکل نہ کرے
حدیث نمبر: 981
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَقَابِرِ ، فَأَمَرَنَا فَجَلَسْنَا ، ثُمَّ تَخَطَّى الْقُبُورَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَبْرٍ مِنْهَا فَجَلَسَ إِلَيْهِ ، فَنَاجَاهُ طَوِيلا ، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاكِيًا ، فَبَكَيْنَا لِبُكَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مَا الَّذِي أَبْكَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْ أَبْكَيْتَنَا وَأَفْزَعْتَنَا ؟ فَأَخَذَ بِيَدِ عُمَرَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " أَفْزَعَكُمْ بُكَائِي ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْقَبْرَ الَّذِي رَأَيْتُمُونِي أُنَاجِي قَبْرُ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي الاسْتِغْفَارَ لَهَا ، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي ، فَنَزَلَ عَلَيَّ : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ سورة التوبة آية 113 فَأَخَذَنِي مَا يَأْخُذُ الْوَلَدُ لِلْوَالِدِ مِنَ الرِّقَةِ ، فَذَلِكَ الَّذِي أَبْكَانِي . أَلا وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَزُورُوهَا ، فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُرَغِّبُ فِي الآخِرَةِ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم بھی آپ کے ساتھ آئے جب ہم قبرستان پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا تو ہم لوگ بیٹھ گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبروں کو پھلانگتے ہوئے، ان میں سے ایک قبر پر تشریف لے گئے آپ اس کے پاس بیٹھ گئے وہاں آپ نے طویل مناجات کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، تو آپ رو رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے تھے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کیوں رو رہے ہیں۔ آپ نے ہمیں بھی رلا دیا ہے اور ہمیں گریہ و زاری کا شکار کر دیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا: کیا تم لوگ میرے رونے کی وجہ سے گھبرا گئے ہو ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قبر جسے تم نے دیکھا ہے، میں وہاں مناجات کر رہا تھا وہ (میری والدہ) آمنہ بنت وہب کی قبر تھی میں نے اپنے پروردگار سے ان کے لئے استغفار کا سوال کیا، تو مجھے اجازت نہیں دی مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” نبی اور اہل ایمان کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے، وہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کریں۔ “ تو مجھ پر وہی کیفیت طاری ہو گئی، جو کسی بچے کی اپنی ماں کے لئے رقت ہوتی ہے۔ اس بات نے مجھے رلا دیا۔ خبردار! میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہیں اور آخرت کی طرف راغب کرتی ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 981
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «المشكاة» (1769)، «الضعيفة» (5131)، وبعضه صحيح عن أبي هريرة، وسيأتي برقم (3159). تنبيه!! رقم (3159) = (3169) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، ابن جريح: مدلس وقد عنعن، وأيوب بن هانىء: فيه لين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 977»