کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کے لیے اسلام کی ہدایت کی دعا کرے
حدیث نمبر: 979
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا ، وَائْتِ بِهِمْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! دوس قبیلے کے افراد نافرمانی کر رہے ہیں اور (اسلام قبول کرنے کی) بات نہیں مان رہے۔ آپ ان کے خلافاللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ” اے اللہ! تو دوس قبیلے کو ہدایت عطا کر اور انہیں اسلام کے دامن میں لے آ۔ “