کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ آدمی دعا میں سجع کی کثرت سے بچے، سوائے اس کے جو تھوڑا ہو
حدیث نمبر: 978
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " قُصَّ فِي الْجُمُعَةِ مَرَّةً ، فَإِنْ أَبِيتَ فَمَرَّتَيْنِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلاثًا ، وَلا أَلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعَهُ عَلَيْهِمْ ، وَلَكِنْ إِنِ اسْتَمَعُوا حَدِيثَكَ فَحَدِّثْهُمْ ، وَاجْتَنِبِ السَّجْعَ فِي الدُّعَاءِ ، فَإِنِّي عَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ " .
عامر شعبی، مدینہ منورہ کے واعظ ابن ابوسائب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ہفتے میں ایک مرتبہ وعظ کیا کرو اگر یہ بات نہیں مانتے، تو دو مرتبہ کر لیا کرو اور اگر یہ بھی نہیں مانتے، تو تین مرتبہ کر لیا کرو۔ میں تمہیں ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس آؤ اور وہ اپنی بات چیت میں مگن ہوں، اور پھر تم ان کی بات کو منقطع کر دو۔ ہونا یہ چاہئے کہ وہ لوگ غور سے تمہاری بات سنیں، تو تم ان کے ساتھ بات چیت کرو اور دعا مانگتے ہوئے مقفع اور مسجع الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو دیکھا ہے، وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے۔