کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ دعا کرنے والے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلدی نہ کرے، بشرطیکہ وہ اللہ کی اطاعت میں دعا کرے
حدیث نمبر: 976
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الاسْتِعْجَالُ ؟ قَالَ : " يَقُولُ : يَا رَبِّ قَدْ دَعَوْتُ ، وَقَدْ دَعَوْتُ ، فَمَا أَرَاكَ تَسْتَجِيبُ لِي ، فَيَدَعُ الدُّعَاءَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بندے کی دعا مسلسل مستجاب ہوتی رہتی ہے، جب تک کہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہیں کرتا اور جب تک وہ جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ “ عرض کی گئی یا رسول اللہ! جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ یہ کہتا ہے، اے میرے پروردگار! میں نے دعا کی پھر میں نے دعا کی، لیکن میرا خیال ہے، تو نے میری دعا قبول نہیں کی۔ پھر وہ شخص دعا کرنا ترک کر دیتا ہے۔