کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص غم میں مبتلا ہو وہ اللہ سے اس کے خاتمے اور اسے خوشی سے بدلنے کی دعا مانگے
حدیث نمبر: 972
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قَالَ عَبْدٌ قَطُّ ، إِذَا أَصَابَهُ هَمٌّ أَوْ حُزْنٌ : اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِي حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِي قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ بَصَرِي ، وَجِلاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي ، إِلا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَعَلَّمَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ ؟ قَالَ : " أَجَلْ ، يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب بھی کسی بندے کو سخت غم یا پریشانی لاحق ہو، تو وہ یہ کلمات پڑھے۔ “ اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں تیرے بندے کا بیٹا ہوں تیری کنیز کا بیٹا ہوں میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہو گا میرے بارے میں تیرا فیصلہ بالکل عدل کے مطابق ہے۔ میں تیرے ہر اسم کے وسیلے سے تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں ہر وہ اسم جو تو نے اپنی ذات کے لئے مقرر کیا ہے یا جسے تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی ایک کو اس کا علم دیا ہے۔ یا جس کے بارے میں، تو نے اپنے پاس موجود علم غیب میں ترجیحی فیصلہ دیا ہے (میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں) کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار بنا دے اور میری آنکھ کا نور بنا دے اور میرے غم کی جلا بنا دے اور میرے غم کی رخصتی کا ذریعہ بنا دے۔ “ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) تواللہ تعالیٰ اس کے غم کو ختم کر دیتا ہے اور اس کے غم کی جگہ خوشی عطا کر دیتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے لئے یہ بات مناسب ہے، ہم ان کلمات کا علم حاصل کر لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ ہر اس شخص کے لئے یہ بات مناسب ہے، جو ان کو سنتا ہے وہ ان کا علم حاصل کر لے۔ “