کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس خصلتوں کا ذکر جن کے استعمال سے آدمی کو دنیا میں تنگی کے زائل ہونے کی امید کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 971
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجَ ثَلاثَةٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَرْتَادُونَ لأَهْلِهِمْ ، فَأَصَابَتْهُمُ السَّمَاءُ ، فَلَجَئُوا إِلَى جَبَلٍ ، فَوَقَعَتْ عَلَيْهِمْ صَخْرَةٌ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : عَفَا الأَثَرُ ، وَوَقَعَ الْحَجَرُ ، وَلا يَعْلَمُ مَكَانَكُمْ إِلا اللَّهُ ، ادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ . فَقَالَ أَحَدُهُمُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتِ امْرَأَةٌ تُعْجِبُنِي ، فَطَلَبْتُهَا ، فَأَبَتْ عَلَيَّ ، فَجَعَلْتُ لَهَا جُعْلا ، فَلَمَّا قَرَّبَتْ نَفْسَهَا ، تَرَكْتُهَا ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ ، وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ ، فَافْرُجْ عَنَّا . فَزَالَ ثُلُثُ الْجَبَلِ . فَقَالَ الآخَرُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ ، وَكُنْتُ أَحْلُبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا ، فَإِذَا أَتَيْتُهَا ، وَهُمَا نَائِمَانِ ، قُمْتُ قَائِمًا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَا شَرِبَا ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا ، فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ . فَقَالَ الثَّالِثُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا يَوْمًا فَعَمِلَ لِي نِصْفَ النَّهَارِ ، فَأَعْطَيْتُهُ أَجْرَهُ فَتَسَخَّطَهُ وَلَمْ يَأْخُذْهُ ، فَوَفَّرْتُهَا عَلَيْهِ حَتَّى صَارَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ ، ثُمَّ جَاءَ يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَقُلْتُ : خُذْ هَذَا كُلَّهُ ، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ أُعْطِهِ إِلا أَجْرَهُ ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ فَافْرُجْ عَنَّا . قَالَ : فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ " فَوَفَّرْتُهَا عَلَيْهِ " بِمَعْنَى قَوْلِهِ : فَوَفَّرْتُهَا لَهُ ، وَالْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا تُوقِعُ " عَلَيْهِ " بِمَعْنَى لَهُ . وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ سَمِعَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ ، لأَنَّهُ بِهَا نَشَأَ ، وَالْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ لِخُرُوجِهِ عَنْهَا فِي يَفَاعَتِهِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم سے پہلے کے زمانے میں تین لوگ اپنے گھر کی طرف واپس جا رہے تھے راستے میں بارش شروع ہو گئی۔ وہ پہاڑ کی پناہ میں آ گئے ان پر ایک پتھر آ کر گر گیا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہمارے قدموں کے نشانات ختم ہو گئے ہیں۔ اور پتھر آ کر گر گیا ہے۔ اب تمہاری اس جگہ کے بارے میںاللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے، تو تم اپنے سب سے زیادہ قابل اعتماد وسیلے کے ذریعےاللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے، ایک عورت مجھے بہت پسند تھی میں نے اس کے قرب کا مطالبہ کیا لیکن اس نے میری بات نہیں مانی۔ پھر میں نے اسے معاوضہ دیا جب وہ میرے قریب آئی، تو میں نے اسے چھوڑ دیا اگر تو یہ بات جانتا ہے، میں نے تیری رحمت کی امید کرتے ہوئے اور تیرے خوف سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا، تو ہمیں کشادگی نصیب کر۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو ایک تہائی پہاڑ (یعنی پتھر) اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔ دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! اگر تو یہ بات جانتا ہے، میرے ماں باپ تھے میں ان کے لئے ان کے برتن میں دودھ دوھ لیا کرتا تھا جب میں ان کے پاس آیا، تو وہ دونوں سوئے ہوئے تھے۔ میں کھڑا ہوا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ جب وہ بیدار ہوئے، تو انہوں نے اسے پی لیا اگر تو یہ بات جانتا ہے، میں نے ایسا تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے کیا تھا، تو ہم سے اس مشکل صورتحال کو دور کر دے۔ تو (مزید) ایک تہائی پتھر ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو یہ بات جانتا ہے، میں نے ایک دن ایک شخص کو مزدور رکھا تھا۔ اس نے نصف دن تک میرے لیے کام کیا میں نے اسے اس کا معاوضہ دیا تو اس نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور اسے وصول نہیں کیا، تو میں نے اس معاوضے کے ذریعے آگے کام شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ بہت سا مال ہو گیا وہ شخص اپنا معاوضہ وصول کرنے کے لئے آیا، تو میں نے کہا: یہ ساری چیزیں تم لے لو اگر میں چاہتا، تو میں اس وقت اس کو صرف اس کا معاوضہ دے سکتا تھا اگر تو یہ بات جانتا ہے، میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا، تو ہمیں کشادگی نصیب کر۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ لوگ چلتے ہوئے باہر آ گئے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ” تو میں نے اس پر زیادہ کئے ۔“ اس کا مطلب یہ ہے، میں نے اس کے لئے زیادہ کیا، کیونکہ عرب اپنے محاور ے میں لفظ ” علی “ کو ” لہ “ کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ سعید بن ابوالحسن نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مدینہ منورہ میں احادیث کا سماع کیا ہے، کیونکہ ان کی نشو و نما وہیں ہوئی تھی، اور حسن ان سے احادیث کا سماع اس لئے نہیں کر سکے، کیونکہ وہ بچپن میں مدینہ منورہ سے چلے گئے تھے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ” تو میں نے اس پر زیادہ کئے ۔“ اس کا مطلب یہ ہے، میں نے اس کے لئے زیادہ کیا، کیونکہ عرب اپنے محاور ے میں لفظ ” علی “ کو ” لہ “ کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ سعید بن ابوالحسن نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مدینہ منورہ میں احادیث کا سماع کیا ہے، کیونکہ ان کی نشو و نما وہیں ہوئی تھی، اور حسن ان سے احادیث کا سماع اس لئے نہیں کر سکے، کیونکہ وہ بچپن میں مدینہ منورہ سے چلے گئے تھے۔