کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کے معنی کو واضح کرتی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے
حدیث نمبر: 969
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ نَزَلَ بِهِ ، وَلَكِنْ لِيَقُلِ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” کوئی بھی شخص کسی پیش آنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی آرزو ہرگز نہ کرے بلکہ اسے یہ کہنا چاہئے اے اللہ! تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو، اور مجھے اس وقت موت دے دینا جب موت میرے حق میں بہتر ہو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقائق / حدیث: 969
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير يحيى المقابري، فمن رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 965»