کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اپنے رب جل وعلا سے اپنے قرض کی ادائیگی اور فقر سے غنا مانگے
حدیث نمبر: 966
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا ، فَقَالَ لَهَا : " قُولِي : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، أَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الآخَرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ آپ سے خادم مانگیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم یہ پڑھا کرو: ” اے اللہ! اے سات آسمانوں کے پروردگار اے عرش عظیم کے پروردگار اے ہمارے پروردگار اور ہر چیز کے پروردگار! تو ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو باطن ہے تجھ سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے۔ اے تورات، انجیل اور فرقان (یعنی قرآن) کو نازل کرنے والے۔ اے دانے اور گٹھلی کو چیرنے والے۔ میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو، تو نے پکڑا ہوا ہے، تو ہی پہلا ہے تجھ سے پہلے کوئی نہیں تھا، تو ہی بعد والا ہے تیرے بعد کوئی نہیں ہو گا، تو ہمارا قرض ادا کر دے اور ہمیں غربت سے بے نیاز کر دے۔ “