کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ صبح کے وقت اپنے رب جل وعلا سے عفو اور عافیت مانگے
حدیث نمبر: 961
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلاءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ . اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي ، وَدُنْيَايَ ، وَأَهْلِي ، وَمَالِي . اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي ، وَآمِنْ رَوْعَاتِي ، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ ، وَمِنْ خَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي ، وَعَنْ شِمَالِي ، وَمِنْ فَوْقِي ، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي " قَالَ وَكِيعٌ : يَعْنِي : الْخَسْفَ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام کے وقت ان کلمات کو پڑھنا کبھی ترک نہیں کرتے تھے۔ ” اے اللہ! میں دنیا اور آخرت میں تجھ سے عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں اپنے دین اپنی دنیا اپنے اہل خانہ اور اپنے مال کے بارے میں تجھ سے معافی اور عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری پوشیدہ چیزوں پر پردہ رکھ اور میری پریشانیوں کو امن دے۔ اے اللہ! میرے سامنے میرے پیچھے، میرے دائیں طرف، میرے بائیں طرف اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر اور میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ مجھے اپنے نیچے کی طرف سے کوئی دھوکا دیا جائے ۔“ وکیع نامی راوی کہتے ہیں اس سے مراد زمین میں دھنستا ہے۔