کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ جل وعلا سے اپنے تمام امور میں عافیت مانگے
حدیث نمبر: 949
سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عَمَّارٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَرْطَاةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَافِيَتَنَا فِي الأُمُورِ كُلِّهَا ، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الآخِرَةِ " . وَأَخْبَرَنَاهُ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ : " عَاقِبَتَنَا " بِالْقَافِ .
سیدنا بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” اے اللہ! تمام امور میں ہماری عافیت کو اچھا کر دے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا لے۔ “ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ تاہم اس میں لفظ ” عافیت “ کی بجائے لفظ ” عاقبت “ منقول ہے جو ” ق “ کے ساتھ ہے۔