کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ بندہ اپنے رب جل وعلا سے ہدایت، عافیت اور اس کی ولیوں میں شامل ہونے کی دعا مانگے جنہیں اس نے یہ رزق دیا
حدیث نمبر: 945
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ بُرَيْدَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَذْكُرُ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَجَعَلْتُهَا فِي فِي ، فَانْتَزَعَهَا بِلُعَابِهَا ، فَطَرَحَهَا فِي التَّمْرِ ، وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ : " اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ " . قَالَ شُعْبَةُ : وَأَظُنُّهُ قَالَ : " تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الْحَوْرَاءِ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ السَّعْدِيُّ ، وَأَبُو الْجَوْزَاءِ اسْمُهُ : أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُمَا جَمِيعًا تَابِعِيَّانِ بَصْرِيَّانِ .
ابوحوراء سعدی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا بات یاد ہے، تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات یاد ہے، ایک مرتبہ میں نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی تھی۔ اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھجور کو لعاب سمیت باہر نکال دیا تھا اور انہیں کھجوروں میں رکھ دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ دعا تعلیم دیا کرتے تھے۔ ” اے اللہ! جنہیں، تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی ہدایت عطا کر اور جنہیں، تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی عافیت عطا کر اور جن کا تو نگران ہے ان میں سے میرا بھی نگران بن جا، تو نے جو کچھ عطا کیا ہے اس میں میرے لئے برکت رکھ دے اور تو نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے شر سے مجھے بچا لے۔ بے شک تو فیصلہ کرتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا جس کا تو نگران ہو وہ ذلیل نہیں ہوتا۔“ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ ” تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوالجوزاء ربیعہ بن شیبان سعدی ہیں اور ابوالجوزاء کا نام اوس بن عبداللہ ہے، اور یہ دونوں حضرات تابعی ہیں اور دونوں بصرہ کے رہنے والے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوالجوزاء ربیعہ بن شیبان سعدی ہیں اور ابوالجوزاء کا نام اوس بن عبداللہ ہے، اور یہ دونوں حضرات تابعی ہیں اور دونوں بصرہ کے رہنے والے ہیں۔